اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ترکی میں پہلی بار براہ راست صدارتی انتخابات کے لئے پولنگ جاری ہے۔ انتخابات کے میدان میں تین امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔ یہ پہلا موقع پر کہ عوام خود اپنے ووٹوں سے صدر کا انتخاب کر رہے ہیں، اس سے پہلے 11 صدر مملکت کا انتخاب، پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے ذریعے ہوا ہے۔ ترکی کی وزارت عظمیٰ پر ایک دہائی سے زائدعرصے تک حکمرانی کرنے والے رجب طیب اردغان اب صدارتی میدان میں بھی اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔
حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمینٹ پارٹی کی جانب سے موجودہ وزیر اعظم رجب طیب اردوغان میدان میں ہیں جبکہ او آئی سی کے سابق سیکریٹری جنرل اكمل الدین احسان اوغلو کو دو بڑی اپوزیشن پارٹیوں نے اپنا امیدوار بنایا ہے۔ كردو کی پيپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صلاح الدین دمرتاش میدان میں ہیں۔
ترکی میں صدارتی انتخابات ایسے وقت ہو رے ہیں جب یہ ملک اور پورا علاقہ اہم تبدیلیوں کے دور سے گزر رہا ہے لہذا صدارتی انتخابات کا اس ملک کی خارجہ پالیسی پر گہرا اثر پڑے گا۔
اگر پہلے مرحلے میں کسی بھی امیدوار کو واضح اکثریت نہ ملی تو آئندہ 24 اگست کے دوسرے مرحلے کے انتخابات ہوں گے۔
سروے رپورٹوں میں کہا جا رہا ہے کہ رجب طیب اردوغان کو 50 سے 54 فیصد تک ووٹ مل سکتے ہیں جبکہ اكمل الدين احسان اوغلو کو 35 سے 39 فیصد تک ووٹ ملنے کا امکان ہے، صلاح الدین دميرتاش کو 5 سے 7 فیصد تک ووٹ ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔








.......
/169